اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ریاض کی حکومت نے عراق میں عدم استحکام، بد امنی، لاقانونیت اور انارکی پھیلانے کے سلسلے میں اپنی سازشیں ایک بار شروع کررکھی ہیں کیونکہ سعودیوں سمیت بعض دیگر عرب حکمرانوں کو ایک مستقل اور خودمختار عراق ہرگز پسند نہیں ہے کیونکہ مستحکم اور طاقتور عراق علاقے پر تسلط کے خواہاں حکمرانوں کے لئے رکاوٹ ہوسکتا ہے اور امریکیوں کے انخلاء کے بعد بھی عراق نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک مستقل پالیسی پر کاربند ہے اور عرب لیگ یا مغربی طاقتوں کا مقلدِ مہمل نہیں ہے جس کے بعد سے امریکہ نواز عرب حکمرانوں نے شدید رد عمل دکھانا شروع کیا ہے اور عراق کو غیرمستحکم کرنے کے لئے اعلانیہ طور پر میدان میں اترا ہے۔
فلسطینی ہفتہ نامے "المنار" نے آل سعود کے قریبی عرب ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ریاض کی کوشش یہ ہے کہ عراق میں بعض فریقوں کو نقد رشوت دے کر عراق کو انارکی سے دوچار کردے۔
ان سعودی ذرائع نے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت عراق میں استحکام اور امن آنے سے بہت زیادہ فکرمند ہیں کیونکہ عراقی راہنماؤں نے عرب صورت حال کے حوالے سے مستقل پالیسیاں اپنا لی ہیں اور ان کی یہ پالیسیاں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی پالیسیوں سے متضاد ہيں اور پھر عراق بہرحال ایک طاقتور ملک ہے اور اس کا کوئی ماضی ہے اور انسانی تہذیب بنانے میں اس کا کردار ہے چنانچہ عالمی سطح پر بھی عراق کی ایک مستقل حیثیت ہے چنانچہ عرب ریاستوں بالخصوص آل سعود اور آل ثانی کی فکرمندی بآسانی سمجھ میں آتی ہے۔.......
/110
تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:
آل سعود کے خلاف عوامی تحریک؛ تازہ ترین واقعات؛ منطقۃالشرقیہ میں مظاہرے